ابنا: مصر کی آئینی عدالت نے پارلیمنٹ کے ایک تہائی ارکان کی رکنیت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا اور پارلیمنٹ کے نئے قانون کو بھی لغو کردیا ۔جیف جسٹس فاروق سلطان نے اعلان کیا کہ پارلیمنٹ کے ایک تہائی ارکان کی رکنیت کے کالعدم قرار دئیے جانے کے معنی پارلیمنٹ کی تحلیل ہے ۔اس اعلان کے بعد پورے ملک میں بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی واضح رہے کہ گذشتہ اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے پارلیمنٹ کی پانچ سے زیادہ سیٹوں میں سےایک سو ستائیس سیٹیں حاصل کی تھیں ۔ مصر کی آئینی عدالت نے پارلیمنٹ کے نئے قانون کو لغو کرتے ہوئے حسنی مبارک آخری وزیر اعظم احمد شفیق کو دوسرے مرحلےکے صدارتی انتخابات میں برقرار رہنے کی اجازت بھی دیدی ہے ۔ مصر کی پارلیمنٹ میں نئے قانون کے مطابق سابق حکومت کے عناصر کو دس برس تک شہری حقوق سے محروم اور انتخابات میں ان کی شرکت کوممنوع قرار دیا گیاتھا ۔
اس سے قبل مصر کے بعض انقلابی اور فعال افرد پارلیمانی انتخابات کے قانون میں امیدواروں کی نامزدگی کے بارے میں پائے جانے والے عدم مساوات کی وجہ سے پارلیمنٹ کی تحلیل کا مطالبہ کرچکے تھے ۔مصر کے انقلابی عوام نے عدالت کے اس اقدام کے خلاف فوری طورپر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ روز قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں جمع ہوکرعدالت کے اس اقدام کے خلاف نعرے لگائے اور اور اس حکم کی مذمت کی ۔مصر کے مظاہرین نے اپنے نعروں میں آئینی عدالت پریہ الزام لگایتے ہوئے کہ اس نے مصر کی مسلح افواج کی سپریم کو نسل کے اشاروں پر یہ حکم جاری کیا ہے اعلی فوجی کونسل کی تحلیل پر زور دیا ۔ مظاہرین نے التحریر اسکوائر پر سابق حسنی مبارک کی حکومت کے آخری وزیراعظم احمد شفیق کو دوسرے دور کے صدارتی انتخابات میں شرکت سے روکنے کی ضرورت پربھی تاکید کی اور اعلان کیاکہ احمد شفیق کو حکومت میں آنے سے روکنے کے لئے نئے انقلاب کا آغاز ہوگا ۔
لیبر پارٹی کے سربراہ مجدی حسین نے بھی پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے قانون کی لغویت کو بیرون طاقتوں کی خدمت قرار دیتے ہوئے کہاکہ آئینی عدالت کے اس اقدام سے پتہ چلتاہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ احمد شفیق کی حمایت کر رہے ہیں ۔ آزادی اور انصاف پارٹی کے سنیئر رکن ابراہیم ابو عوف نے بھی تاکید کی ہے کہ عدالت کا یہ حکم بہت زیادہ خطرناک ہے جو مصر کو نا معلوم مرحلے میں داخل کردے گا۔ النور پارٹی نے بھی عدالت کے اس حکم کو حسنی مبارک کی سرنگوں شدہ حکومت کو پھر سے زندہ کرنے کے مترادف قراردیا ہے ۔
پجیس جنوری کے مصر کے جوانوں کے اتحاد کے رکن شادی غزالی نے بھی عدالت کے اس حکم کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مصری جوانوں کا یہ اتحاد حسنی مبارک کی حکومت کو پھر سے واپس لانے کے اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا ۔۔ مصر کے فعال سیاستدانوں نے عدالت کے اس حکم اور اقدام کو انقلاب مصر کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے ۔مصر کی آئینی عدالت نے اس حکم کا ایسے وقت اعلان کیا ہے کہ سولہ اور سترہ جون کو مصر میں دوسرے دور کے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔بہرحال مصر کے حالات اس حکم کے بعد ایک بار پھر بحرانی ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اخوان المسلمین کے سنیئر لیڈر نے عدالت کے اس حکم کو ایک فوجی بغاوت کے مترادف قرار دیاہے ۔
.......
/169
اس سے قبل مصر کے بعض انقلابی اور فعال افرد پارلیمانی انتخابات کے قانون میں امیدواروں کی نامزدگی کے بارے میں پائے جانے والے عدم مساوات کی وجہ سے پارلیمنٹ کی تحلیل کا مطالبہ کرچکے تھے ۔مصر کے انقلابی عوام نے عدالت کے اس اقدام کے خلاف فوری طورپر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ روز قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں جمع ہوکرعدالت کے اس اقدام کے خلاف نعرے لگائے اور اور اس حکم کی مذمت کی ۔مصر کے مظاہرین نے اپنے نعروں میں آئینی عدالت پریہ الزام لگایتے ہوئے کہ اس نے مصر کی مسلح افواج کی سپریم کو نسل کے اشاروں پر یہ حکم جاری کیا ہے اعلی فوجی کونسل کی تحلیل پر زور دیا ۔ مظاہرین نے التحریر اسکوائر پر سابق حسنی مبارک کی حکومت کے آخری وزیراعظم احمد شفیق کو دوسرے دور کے صدارتی انتخابات میں شرکت سے روکنے کی ضرورت پربھی تاکید کی اور اعلان کیاکہ احمد شفیق کو حکومت میں آنے سے روکنے کے لئے نئے انقلاب کا آغاز ہوگا ۔
لیبر پارٹی کے سربراہ مجدی حسین نے بھی پارلیمنٹ کی تحلیل اور نئے قانون کی لغویت کو بیرون طاقتوں کی خدمت قرار دیتے ہوئے کہاکہ آئینی عدالت کے اس اقدام سے پتہ چلتاہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ احمد شفیق کی حمایت کر رہے ہیں ۔ آزادی اور انصاف پارٹی کے سنیئر رکن ابراہیم ابو عوف نے بھی تاکید کی ہے کہ عدالت کا یہ حکم بہت زیادہ خطرناک ہے جو مصر کو نا معلوم مرحلے میں داخل کردے گا۔ النور پارٹی نے بھی عدالت کے اس حکم کو حسنی مبارک کی سرنگوں شدہ حکومت کو پھر سے زندہ کرنے کے مترادف قراردیا ہے ۔
پجیس جنوری کے مصر کے جوانوں کے اتحاد کے رکن شادی غزالی نے بھی عدالت کے اس حکم کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مصری جوانوں کا یہ اتحاد حسنی مبارک کی حکومت کو پھر سے واپس لانے کے اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا ۔۔ مصر کے فعال سیاستدانوں نے عدالت کے اس حکم اور اقدام کو انقلاب مصر کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے ۔مصر کی آئینی عدالت نے اس حکم کا ایسے وقت اعلان کیا ہے کہ سولہ اور سترہ جون کو مصر میں دوسرے دور کے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں ۔بہرحال مصر کے حالات اس حکم کے بعد ایک بار پھر بحرانی ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اخوان المسلمین کے سنیئر لیڈر نے عدالت کے اس حکم کو ایک فوجی بغاوت کے مترادف قرار دیاہے ۔
.......
/169